السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، سَمِعَ رَجُلًا، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ: إِنَّ لِي جَارًا يَأْكُلُ الرِّبَا، أَوْ قَالَ: خَبِيثُ الْكَسْبِ، وَرُبَّمَا دَعَانِي لِطَعَامِهِ أَفَأُجِيبُهُ؟، قَالَ: " نَعَمْ ".حافظ ثناء اللہ
ربیع بن عبداللہ نے ایک آدمی کو سنا، اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہمارا ہمسایہ سود کھاتا ہے یا اس کی کمائی حرام کی ہے اور بعض اوقات مجھے کھانے کی دعوت دیتا ہے، کیا میں قبول کر لیا کروں؟ فرمایا: ہاں۔