حدیث نمبر: 10822
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَبِي جَلَّابُ الْغَنَمِ وَإِنَّهُ مُشَارِكٌ الْيَهُودِيَّ وَالنَّصْرَانِيَّ، قَالَ: " لَا نُشَارِكْ يَهُودِيًّا، وَلَا نَصْرَانِيًّا، وَلَا مَجُوسِيًّا "، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُمْ يُرْبُونَ وَالرِّبَا لَا يَحِلُّ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میرا والد بکریوں کا تاجر ہے، وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے شراکت کرتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم یہودی، عیسائی اور مجوسی سے شراکت نہیں رکھتے، میں نے کہا: کیوں؟ اس لیے کہ وہ سود لیتے ہیں اور سود جائز نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10822
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبه 1998»