حدیث نمبر: 1082
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عِمْرَانُ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " امْسَحْ عَلَى الْجَبَائِرِ " عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ مَعْرُوفٌ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ كَذَّبَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا مَنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ وَنَسَبَهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَكَانَ فِي جِوَارِنَا فَلَمَّا فُطِنَ لَهُ تَحَوَّلَ إِلَى وَاسِطَ وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ مِثْلَهُ وَعُمَرُ بْنُ مُوسَى مَتْرُوكٌ مَنْسُوبٌ إِلَى الْوَضْعِ وَنَعُوذُ بِاللهِ مَنِ الْخُذْلَانِ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْهُولٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلًا وَأَبُو الْوَلِيدِ ضَعِيفٌ وَلَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِيهِ حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ الَّذِي قَدْ تَقَدَّمَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَإِنَّمَا فِيهِ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ مَنَ التَّابِعِينَ فَمَنْ بَعْدَهُمْ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِصَابَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تو میں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پٹیوں پر مسح کرو۔“ (ب) عمرو بن خالد واسطی حدیث وضع کرنے میں معروف تھا، امام احمد، یحییٰ بن معین اور دوسرے ائمہ حدیث نے اسے کذاب کہا ہے۔ وکیع بن جراح رحمہ اللہ نے وضعِ حدیث کی طرف اسے منسوب کیا ہے۔ (ج) اس کی متابعت عمر بن موسیٰ بن وجیہ سے ہے، زید بن علی رحمہ اللہ نے بھی اس کی مثل روایت کی ہے۔ (د) عمر بن موسیٰ متروک ہے اور احادیث وضع کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس میں ان کے دھوکے سے محفوظ رکھے۔ (ر) زید بن علی رحمہ اللہ سے ایک دوسری مجہول سند سے روایت ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ (س) ابو ولید بیان کرتا ہے کہ خالد بن یزید مکی دوسری اسناد سے زید بن علی رحمہ اللہ سے اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت بیان کرتا ہے۔ ابو ولید ضعیف ہے۔ (ص) نبی ﷺ سے اس باب میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ (ط) اس باب میں صحیح ترین حدیث عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کی ہے جو پہلے گزر چکی ہے، وہ بھی قوی نہیں۔ تابعین فقہاء اور ان کے بعد والوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پٹی پر مسح کرنا روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1082
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع۔ أخرجه ابن ماجه 657»