السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: المسح على العصائب والجبائر باب: پٹیوں اور جبیرا (ٹوٹی ہڈی پر بندھی پٹی) پر مسح کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عِمْرَانُ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " امْسَحْ عَلَى الْجَبَائِرِ " عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ مَعْرُوفٌ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ كَذَّبَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا مَنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ وَنَسَبَهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَكَانَ فِي جِوَارِنَا فَلَمَّا فُطِنَ لَهُ تَحَوَّلَ إِلَى وَاسِطَ وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ مِثْلَهُ وَعُمَرُ بْنُ مُوسَى مَتْرُوكٌ مَنْسُوبٌ إِلَى الْوَضْعِ وَنَعُوذُ بِاللهِ مَنِ الْخُذْلَانِ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْهُولٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلًا وَأَبُو الْوَلِيدِ ضَعِيفٌ وَلَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِيهِ حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ الَّذِي قَدْ تَقَدَّمَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَإِنَّمَا فِيهِ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ مَنَ التَّابِعِينَ فَمَنْ بَعْدَهُمْ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِصَابَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تو میں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پٹیوں پر مسح کرو۔“ (ب) عمرو بن خالد واسطی حدیث وضع کرنے میں معروف تھا، امام احمد، یحییٰ بن معین اور دوسرے ائمہ حدیث نے اسے کذاب کہا ہے۔ وکیع بن جراح رحمہ اللہ نے وضعِ حدیث کی طرف اسے منسوب کیا ہے۔ (ج) اس کی متابعت عمر بن موسیٰ بن وجیہ نے کی ہے، اس نے زید بن علی رحمہ اللہ سے اس کی مثل روایت کی ہے۔ (د) عمر بن موسیٰ متروک ہے اور احادیث وضع کرتا تھا۔ ہم رسوائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ (ر) زید بن علی رحمہ اللہ سے ایک دوسری مجہول سند سے روایت ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ (س) ابو ولید خالد بن یزید مکی نے دوسری سند سے زید بن علی رحمہ اللہ سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت بیان کی ہے۔ ابو ولید ضعیف ہے۔ (ص) نبی ﷺ سے اس باب میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ (ط) اس باب میں صحیح ترین حدیث عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کی ہے جو پہلے گزر چکی ہے، وہ بھی قوی نہیں۔ اس باب میں صرف تابعین فقہاء اور ان کے بعد والوں کے اقوال ہیں، اور ساتھ وہ جو ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پٹی پر مسح کرنے کے بارے میں روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔