السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: المسح على العصائب والجبائر باب: پٹیوں اور جبیرا (ٹوٹی ہڈی پر بندھی پٹی) پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1081
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَكَفُّهُ مَعْصُوبَةٌ فَمَسَحَ عَلَى الْعَصَائِبِ وَغَسَلَ سِوَى ذَلِكَ. هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ صَحِيحٌ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ انْكَسَرَ إِحْدَى زَنْدَيْ يَدَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ وَلَوْ عَرَفْتُ إِسْنَادَهُ بِالصِّحَّةِ لَقُلْتُ بِهِ يَعْنِي مَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا اور ان کی ہتھیلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی، انہوں نے اس پر اور پگڑی پر مسح کیا اور اس کے علاوہ باقی اعضا دھوئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی روایت صحیح ہے۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی گئی کہ ان کی ایک کلائی ٹوٹ گئی تو نبی ﷺ نے انہیں ”پٹیوں پر مسح کرنے“ کا حکم دیا۔ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے اس حدیث کی سند صحیح معلوم ہو جائے تو میں اس کے مطابق فتویٰ دوں گا۔