السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : الرجل يبيع الشيء إلى أجل ثم يشتريه بأقل باب: ”کوئی شخص کسی چیز کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچے، پھر اسے کم قیمت پر خرید لے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ تَكُونُ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عَنْهَا عَابَتْ عَلَيْهَا بَيْعًا إِلَى الْعَطَاءِ؛ لِأَنَّهُ أَجَلٌ غَيْرُ مَعْلُومٍ وَهَذَا مَا لَا نُجِيزُهُ، لَا أَنَّهَا عَابَتْ عَلَيْهَا مَا اشْتَرَتْ بِنَقْدٍ وَقَدْ بَاعَتْهُ إِلَى أَجَلٍ وَلَوِ اخْتَلَفَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ فِيهِ شَيْئًا، وَقَالَ غَيْرُهُ خِلَافَهُ كَانَ أَصْلُ مَا نَذْهَبُ إِلَيْهِ أَنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ الَّذِي مَعَهُ الْقِيَاسُ وَالَّذِي مَعَهُ الْقِيَاسُ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: وَجُمْلَةُ هَذَا أَنَّا لَا نُثْبِتُ مِثْلَهُ عَلَى عَائِشَةَ مَعَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ لَا يَبِيعُ إِلَّا مَا ⦗٥٤١⦘ يَرَاهُ حَلَالًا، وَلَا يَبْتَاعُ إِلَّا مِثْلَهُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا بَاعَ شَيْئًا أَوِ ابْتَاعَهُ نَرَاهُ نَحْنُ مُحَرَّمًا وَهُوَ يَرَاهُ حَلَالًا لَمْ نَزْعُمُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْبِطُ بِهِ مِنْ عَمَلِهِ شَيْئًا.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہوتا تو وہ اس بیع پر ضرور عیب لگاتیں، کیونکہ اس کا تو وقت ہی معلوم نہیں۔ اس کو ہم جائز خیال نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے نقد خریدنے پر انہوں نے عیب لگایا ہے تو اس نے مدت متعین کے لیے فروخت کیا تھا۔ لیکن صحابہ کے درمیان بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ ہم اس کی بات لیں گے جس کے ساتھ قیاس بھی ہو تو وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں، ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف کسی چیز کو ثابت تو نہیں کرتے لیکن زید بن ارقم رضی اللہ عنہ حلال خیال کرتے ہوئے ہی خریدتے اور فروخت کرتے تھے، لیکن ان کے خیال میں حلال تھا تو ان کے اعمال باطل نہ ہوں گے ہمارے حرام سمجھنے کی بنا پر۔ [صحیح۔ ذکرہ الشافعی فی الام: 3/ 95]