السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : الرجل يبيع الشيء إلى أجل ثم يشتريه بأقل باب: ”کوئی شخص کسی چیز کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچے، پھر اسے کم قیمت پر خرید لے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سَرْجًا وَلَمْ يَنْقُدْ ثَمَنَهُ، فَأَرَادَ صَاحِبُ السَّرْجِ الَّذِي اشْتَرَاهُ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَرَادَ الَّذِي بَاعَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ بِدُونِ مَا بَاعَهُ مِنْهُ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَلَعَلَّهُ لَوْ بَاعَهُ مِنْ غَيْرِهِ بَاعَهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ أَوْ أَنْقَصَ ".سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو دیا فروخت کر دیا، اس نے قیمت نقد نہ دی۔ اب دینے والے کا اس کو خریدنے کا ارادہ بنا جس سے فروخت کیا تھا تو اس سے کہا: کم قیمت لو جتنے میں میں نے تجھے فروخت کیا تھا، اس کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ وہ کسی دوسرے کو دے تو ممکن ہے اسی قیمت میں فروخت کرے یا اس سے بھی کم۔
(ب) ہشام رحمہ اللہ، ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو اونٹ فروخت کیا، وہ کہنے لگا: اپنا اونٹ بھی لو اور 30 درہم بھی۔ انہوں نے قاضی شریح رحمہ اللہ سے سوال کیا تو وہ اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔