السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : الرجل يبيع الشيء إلى أجل ثم يشتريه بأقل باب: ”کوئی شخص کسی چیز کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچے، پھر اسے کم قیمت پر خرید لے“۔
حدیث نمبر: 10802
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سَرْجًا وَلَمْ يَنْقُدْ ثَمَنَهُ، فَأَرَادَ صَاحِبُ السَّرْجِ الَّذِي اشْتَرَاهُ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَرَادَ الَّذِي بَاعَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ بِدُونِ مَا بَاعَهُ مِنْهُ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَلَعَلَّهُ لَوْ بَاعَهُ مِنْ غَيْرِهِ بَاعَهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ أَوْ أَنْقَصَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو زین فروخت کی، اس نے قیمت نقد نہ دی۔ پھر زین خریدنے والے نے اسے بیچنا چاہا تو فروخت کرنے والے نے ارادہ کیا کہ وہ اسے اس قیمت سے کم میں لے لے جتنے میں اس نے اسے فروخت کی تھی، اس کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ اگر وہ کسی دوسرے کو بیچتا تو ممکن ہے اسی قیمت میں فروخت کرتا یا اس سے بھی کم۔