حدیث نمبر: 10800
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ امْرَأَتِهِ الْعَالِيَةِ أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي السَّفَرِ بَاعَتْ جَارِيَةً لَهَا إِلَى الْعَطَاءِ مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " بِئْسَ مَا شَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ " وَزَادَ، قَالَتْ: أَرَأَيْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ إِلَّا رَأْسَ مَالِي، قَالَتْ: " فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ. كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ أَيْفَعَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ إِلَى مَكَّةَ فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ

ابواسحاق اپنی زوجہ عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابواسفر کی بیوی نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو ایک لونڈی 800 درہم میں فروخت کر دی۔ اس نے ذکر کیا ہے کہ آپ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: ”تم نے برا فروخت کیا ہے اور برا ہی خریدا ہے۔“ اس نے زیادہ (مزید) کیا ہے کہ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنا اصل مال لوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ﴿فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ﴾ [سورة البقرة: 275] ”جس کے پاس اس کے رب کی نصیحت آگئی، وہ رک گیا تو اس کے لیے وہ ہے جو گزر گیا۔“
(ب) یونس بن ابی اسحاق اپنی والدہ عالیہ بنت ایفع سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں اور ام محبہ مکہ گئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10800
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»