السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : الرجل يبيع الشيء إلى أجل ثم يشتريه بأقل باب: ”کوئی شخص کسی چیز کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچے، پھر اسے کم قیمت پر خرید لے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَالِيَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَتَتْهَا أُمُّ مَحَبَّةٍ فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَكُنْتِ تَعْرِفِينَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَإِنِّي بِعْتُهُ جَارِيَةً إِلَى عَطَائِهِ بِثَمَانِمِائَةٍ نَسِيئَةً وَإِنَّهُ أَرَادَ بَيْعَهَا فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا، فَقَالَتْ لَهَا: " بِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَى أَبْلِغِي زَيْدًا أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَتُبْ ".ابواسحاق عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ام محبہ آئی، اس نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو جانتی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہاں۔ (ام محبہ نے کہا:) میں نے ان کو اپنی لونڈی ان کا وظیفہ ملنے تک 800 درہم ادھار پر فروخت کی تھی، پھر انہوں نے اسے بیچنا چاہا تو میں نے ان سے وہ 600 درہم نقد میں خرید لی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام محبہ سے کہا: برا ہے جو تو نے خریدا اور برا ہے جو انہوں نے خریدا۔ میری بات زید تک پہنچا دو، اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ کیا ہوا اپنا جہاد بھی باطل کر لیا۔