السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء فيمن اشترى جارية فأصابها ثم وجد بها عيبا باب: اس شخص کے متعلق کیا وارد ہوا ہے جس نے کوئی لونڈی خریدی اور اس سے ہم بستری کی پھر اس میں کوئی عیب پایا۔
حدیث نمبر: 10746
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَرِيكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرٌ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: " إِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا رَدَّ مَعَهَا نِصْفَ الْعُشْرِ، وَإنْ كَانَتْ بِكْرًا رَدَّ الْعُشْرَ " قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا مُرْسَلٌ، عَامِرٌ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا نَعْلَمُهُ يَثْبُتُ عَنْ عُمَرَ وَلَا عَلِيٍّ وَلَا وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَكَذَلِكَ قَالَ بَعْضُ مَنْ حَضَرَهُ وَحَضَرَ مَنْ يُنَاظِرُهُ فِي ذَلِكَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ أَنَّ ذَلِكَ لَا يَثْبُتُ، وَهُوَ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْعِرَاقِيِّينَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر وہ ثیبہ (شوہر دیدہ) ہو تو اس کے ساتھ (قیمت کا) بیسواں حصہ واپس کیا جائے۔ اگر کنواری ہو تو دسواں حصہ واپس کیا جائے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے، عامر نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے علم میں یہ سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما میں سے کسی سے ثابت نہیں، اور اسی طرح وہاں موجود بعض اہل حدیث نے بھی کہا کہ یہ ثابت نہیں۔