السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء فيمن اشترى جارية فأصابها ثم وجد بها عيبا باب: اس شخص کے متعلق کیا وارد ہوا ہے جس نے کوئی لونڈی خریدی اور اس سے ہم بستری کی پھر اس میں کوئی عیب پایا۔
حدیث نمبر: 10745
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي رَجُلٍ اشْتَرَى جَارِيَةً فَوَطِئَهَا فَوَجَدَ بِهَا عَيْبًا، قَالَ: " لَزِمَتْهُ وَيَرُدُّ الْبَائِعُ مَا بَيْنَ الصِّحَّةِ وَالدَّاءِ، وَإنْ لَمْ يَكُنْ وَطِئَهَا رَدَّهَا "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَلِيًّا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے لونڈی خرید کر ہم بستری کی، پھر اس کا عیب معلوم ہوا۔ فرمایا: اسی کے پاس ہی رہے گی اور فروخت کرنے والا جو صحت اور بیماری کے درمیان ہے ادا کرے گا۔ اگر اس نے مجامعت نہ کی ہو تو واپس کر سکتا ہے۔