السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: المشتري يجد بما اشتراه عيبا وقد استغله زمانا باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
حدیث نمبر: 10744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ غُلَامًا فَأَصَابَ مِنْ غَلَّتِهِ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ دَاءً كَانَ عِنْدَ الْبَائِعِ فَخَاصَمَهُ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ: " رُدَّ الدَّاءَ بِدَائِهِ، وَلَكَ الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ ".حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے غلام خریدا، اس سے غلہ بھی حاصل کیا، پھر اس میں بیماری پائی جو فروخت کرنے والے کے پاس ہی موجود تھی۔ وہ جھگڑا لے کر قاضی شریح کے پاس آگئے تو انہوں نے فرمایا: وہ بیماری کی وجہ سے واپس کیا جائے گا اور تیرے لیے غلہ ضمانت کی وجہ سے ہے۔