السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: المشتري يجد بما اشتراه عيبا وقد استغله زمانا باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
حدیث نمبر: 10741
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: خَاصَمْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي عَبْدٍ دَلَّسَ لَنَا فَأَصَبْنَا مِنْ غَلَّتِهِ وَعِنْدَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَهُ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.حافظ ثناء اللہ
مخلد بن خفاف غفاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک غلام کے بارے میں جھگڑا لے کر گیا جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا، ہم نے اس کے غلے کو پا لیا اور ان کے پاس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ تھے، عروہ رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے چٹی کا فیصلہ ضمانت کی وجہ سے کیا۔“