السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: المشتري يجد بما اشتراه عيبا وقد استغله زمانا باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ، قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ، وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْنِي " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ ". فَعَجَّلْتُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ مَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ ⦗٥٢٦⦘ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَيْسَرَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ قَضَيْتُهُ اللهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أُرِدْ فِيهِ إِلَّا الْحَقَّ فَبَلَغَتْنِي فِيهِ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرُدُّ قَضَاءَ عُمَرَ وَأُنَفِّذُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيَّ لَهُ.مخلد بن خفاف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا، میں نے اس سے غلہ حاصل کیا، پھر میں نے اس کے عیب کی نشاندہی کر دی، پھر میں جھگڑا لے کر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس گیا، انہوں نے اس کی واپسی کا فیصلہ کر دیا اور مجھے اس کا غلہ واپس کرنے کا کہا۔ میں نے آکر عروہ رحمہ اللہ کو خبر دی تو انہوں نے کہا: میں شام کے وقت جا کر ان کو خبر دوں گا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کا فیصلہ فرمایا کہ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج ضمانت کی وجہ سے ہے۔“ میں نے حضرت عمر رحمہ اللہ کی طرف جلدی کی، میں نے ان کو بتایا جو عروہ رحمہ اللہ نے بحوالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے متعلق مجھے بتایا، حضرت عمر رحمہ اللہ فرمانے لگے: اس سے زیادہ آسان فیصلہ میرے پاس نہیں آیا جو میں نے فیصلے کیے ہیں، اللہ جانتا ہے کہ میں صرف حق کا فیصلہ کروں گا کیونکہ مجھے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ مل گیا ہے، میں نے حضرت عمر رحمہ اللہ کا فیصلہ رد کر دیا اور میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو نافذ کروں گا۔ عروہ رحمہ اللہ ان کے پاس گئے، انہوں نے میرے لیے فیصلہ کیا کہ میں اس سے خراج لوں جس نے میرے خلاف فیصلہ کیا تھا۔
(ب) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے دور میں غلام خریدا، اس میں عیب تھا جس کو وہ جانتا نہ تھا، اس نے اس سے غلہ حاصل کیا، پھر اس کے عیب کو جان لیا اور اس کو واپس کر دیا، اس کا جھگڑا نبی ﷺ تک آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے فلاں وقت غلہ حاصل کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”غلہ ضمان کی وجہ سے ہے۔“
(ب) مسلم بن خالد بیان کرتے ہیں کہ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج ضمانت کی وجہ سے ہے۔“