السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: المشتري يجد بما اشتراه عيبا وقد استغله زمانا باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
حدیث نمبر: 10740
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ شُرَكَائِي عَبْدٌ فَاقْتَوَيْنَاهُ فِيمَا بَيْنَنَا، قَالَ: وَكَانَ مِنْهُمْ غَائِبٌ فَقَدِمَ فَخَاصَمَنَا إِلَى هِشَامٍ فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْعَبْدُ وَخَرَاجُهُ، وَقَدْ كَانَ اجْتَمَعَ مِنْ خَرَاجِهِ أَلْفُ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ " قَالَ: فَأَتَيْتُ هِشَامًا فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَرَدَّ ذَلِكَ وَأَجَازَهُ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُسِمِّ الْأَلْفَ وَلَا هِشَامًا، وَقَالَ: إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَسَمَّاهُمَا.حافظ ثناء اللہ
مخلد بن خفاف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ایک غلام تھا، ہم نے اپنے درمیان اس کی قیمت لگائی۔ ان میں سے ایک غائب تھا، جب وہ آیا تو ہم جھگڑا لے کر ہشام کے پاس گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ غلام لوٹایا جائے اور اس کا منافع بھی، جبکہ اس کے منافع سے ایک ہزار درہم جمع ہو چکے تھے۔ مخلد بن خفاف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عروہ رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”اخراجات کے بدلے منافع“ کا فیصلہ فرمایا تھا۔ میں ہشام کے پاس آیا تو انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے کر اس کو درست کر دیا۔