حدیث نمبر: 10719
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: " رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ " قَالَ الشَّيْخُ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ " إِنَاءً مِنْ طَعَامٍ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت ایوب رحمہ اللہ بھی اس کے ہم معنی بیان کرتے ہیں: ”اگر اس کو واپس کر دے تو ایک صاع کھجور کا بھی دے، گندم نہیں“ اور بعض نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے کہ ”اناج کا ایک برتن دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10719
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»