السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الحكم فيمن اشترى مصراة باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
حدیث نمبر: 10720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَحَلَبَهَا فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ " قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالتَّمْرُ أَكْثَرُ قَالَ الشَّيْخُ: وَالْمُرَادُ بِالطَّعَامِ فِي هَذَا الْخَبَرِ التَّمْرُ فَقَدْ قَالَ: لَا سَمْرَاءَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی اونٹنی یا بکری خریدی، اس کو دو اختیاروں میں سے ایک ہے۔ اگر چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ غلے کا ایک برتن بھی۔“
(ب) بعض ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک صاع غلے کا اور اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «طَعَام» سے مراد اس حدیث میں کھجور ہے۔ کھجور دیں، گندم نہیں۔