کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا ⦗٥١٩⦘ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَخْرَمُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَلَا الْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اونٹوں اور بکریوں کے دودھ نہ روکو، جس نے ایسے جانور کو خریدا اس کا دودھ دوہنے کے بعد اس کو دو اختیار ہیں: اگر پسند کرے تو روک لے، اگر ناراض ہو تو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور کا دے دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، قَالُوا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا فَإِنْ رَضِيَ حِلَابَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِلَّا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَشَارَ إِلَيْهِ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَمُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی وہ لے جا کر اس کا دودھ نکالے، اگر اس کے دودھ پر راضی ہو تو روک لے وگرنہ اس کو واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور کا بھی۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ایک صاع کھجور کا دے دے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ایک صاع کھجور کا دے دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَا أَحَدُكُمُ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا هِيَ وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی دودھ روکی ہوئی اونٹنی یا بکری خریدے، اس کو دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے کہ اس کو رکھ لے یا واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور کا دے دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَخْلَدٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً احْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، اس کا دودھ نکالتا ہے، اگر اسے پسند ہے تو روک لے۔ اگر اس کو ناپسند ہے تو اس کے دودھ کے عوض ایک صاع کھجور کا بھی دے دے۔“
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض ابن سیرین سے ایک صاع کھجور کا نقل فرماتے ہیں۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض ابن سیرین سے ایک صاع کھجور کا نقل فرماتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ " ⦗٥٢٠⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، پھر اس کو واپس کر دیا تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور واپس کرے، گندم نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ إنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ..
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہارون رحمہ اللہ نے اس کی مثل ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ”دودھ روکی ہوئی بکری کو خریدنے والا اختیار سے ہے۔ اگر اس کو واپس کرے تو ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ دے، گندم نہیں۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: " رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ " قَالَ الشَّيْخُ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ " إِنَاءً مِنْ طَعَامٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ایوب رحمہ اللہ بھی اس کے ہم معنی بیان کرتے ہیں: ”اگر اس کو واپس کر دے تو ایک صاع کھجور کا بھی دے، گندم نہیں“ اور بعض نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے کہ ”اناج کا ایک برتن دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَحَلَبَهَا فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ " قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالتَّمْرُ أَكْثَرُ قَالَ الشَّيْخُ: وَالْمُرَادُ بِالطَّعَامِ فِي هَذَا الْخَبَرِ التَّمْرُ فَقَدْ قَالَ: لَا سَمْرَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی اونٹنی یا بکری خریدی، اس کو دو اختیاروں میں سے ایک ہے۔ اگر چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ غلے کا ایک برتن بھی۔“
(ب) بعض ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک صاع غلے کا اور اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «طَعَام» سے مراد اس حدیث میں کھجور ہے۔ کھجور دیں، گندم نہیں۔
(ب) بعض ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک صاع غلے کا اور اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کھجور زیادہ ہوتی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «طَعَام» سے مراد اس حدیث میں کھجور ہے۔ کھجور دیں، گندم نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَحَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ قُرَّةُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی اس کو تین دن کا اختیار ہے، اگر چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع غلے کا گندم کے علاوہ دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا عَلَى بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَنْتَظِرُهُ، فَخَرَجَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى أَتَى عَقَبَةً مِنْ عِقَابِ الْمَدِينَةِ فَقَعَدَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " ⦗٥٢١⦘ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَتَلَقَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ سُوقًا وَلَا يَبِيعَنَّ مُهَاجِرِيٌّ لِأَعْرَابِيٍّ، وَمَنْ بَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ " أَوْ قَالَ: " مِثْلَيْ لَبَنِهَا قَمْحًا " تَفَرَّدَ بِهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر آپ ﷺ کا انتظار کرتے تھے، آپ ﷺ نکلے، ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑے، آپ مدینہ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی پر آئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہر سے باہر تجارتی قافلے کو نہ ملے اور مہاجر دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے اور جس نے دودھ روکا ہوا جانور خریدا اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ اگر واپس کرے تو اس کی مثل بھی“ یا فرمایا: ”اس کے دو گنا گندم یعنی دودھ کے دو مثل گندم بھی دے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں جمیع بن عمیر منفرد ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں نظر ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں جمیع بن عمیر منفرد ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں نظر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً أَوْ لِقْحَةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بَيْنَ أَنْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ، أَوْ يَأْخُذَهَا " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری یا اونٹنی خریدی، اس کو دو میں سے ایک کا اختیار ہے کہ اس کو واپس کر دے اور ایک برتن غلے کا دے دے یا اس یعنی جانور کو رکھ لے۔“
یہی مرسل روایت محفوظ ہے، اور اسماعیل بن مسلم نے اسے حسن سے، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
یہی مرسل روایت محفوظ ہے، اور اسماعیل بن مسلم نے اسے حسن سے، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَإِنَّ لِصَاحِبِهَا أَنْ يَحْتَلِبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا فَلْيُمْسِكْهَا وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، اس جانور کا دودھ دوہنے کے بعد اگر اس کو اچھی لگے تو روک لے وگرنہ واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی دے دے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَمَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، فَإِنْ حَلَبَهَا وَرَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا شَكًّا مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَقَالَ: صَاعًا مِنْ هَذَا أَوْ مِنْ ذَلِكَ لَا أَنَّهُ مِنْ وَجْهِ التَّخْيِيرِ؛ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِلْأَحَادِيثِ الثَّابِتَةِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ صحابہ میں سے کسی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”تجارتی قافلے کو ملنے سے منع فرمایا اور شہری دیہاتی کے لیے بیع کرے اس سے بھی روکا۔“ ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی اس کو دو اختیاروں میں سے ایک ہے، اگر اس کا دودھ دوہنے کے بعد پسند کرے تو اس کو رکھ لے۔ اگر واپس کرے تو ایک صاع غلے یا ایک صاع کھجور کا ساتھ دے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے یہ بعض راویوں کا شک ہو کہ ایک اس سے ہوگا یا اس سے، نہ کہ اختیار کے طریقے پر، تاکہ ثابت احادیث کے موافق ہو جائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے یہ بعض راویوں کا شک ہو کہ ایک اس سے ہوگا یا اس سے، نہ کہ اختیار کے طریقے پر، تاکہ ثابت احادیث کے موافق ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُعْتَمِرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً، فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا "، قَالَ: " وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ "، ⦗٥٢٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے تھنوں میں روکے ہوئے دودھ والا جانور خریدا، اگر وہ اس کو واپس کرنا چاہے تو ساتھ ایک صاع بھی واپس کرے“ اور آپ ﷺ نے تجارتی قافلوں سے ملنے سے منع فرمایا۔
وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، أنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى الرُّويَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ فَذَكَرَهُ. قَالَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: حَدِيثُ الْمُحَفَّلَةِ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ وَقَدْ رَفَعَهُ أَبُو خَالِدٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”جس نے تھنوں میں دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، اگر اس کو واپس کرنا چاہے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے۔“
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محفلہ والی حدیث سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، البتہ ابو خالد نے اسے تیمی سے مرفوع بیان کیا ہے۔
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محفلہ والی حدیث سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، البتہ ابو خالد نے اسے تیمی سے مرفوع بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْقَاسِمُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَقُلْ مِنْ تَمْرٍ. قَالَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَهُشَيْمٌ، وَجَرِيرٌ وَغَيْرُهُمْ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثَ الْمُحَفَّلَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو خالد نے اس کو ذکر کیا لیکن «مِنْ تَمْرٍ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن مبارک، یحییٰ بن سعید، ابن ابی عدی، یزید بن زریع، ہشیم، جریر اور دیگر نے محفلہ والی حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا ہے۔
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن مبارک، یحییٰ بن سعید، ابن ابی عدی، یزید بن زریع، ہشیم، جریر اور دیگر نے محفلہ والی حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا ہے۔