السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الحكم فيمن اشترى مصراة باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
حدیث نمبر: 10718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ إنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ..حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہارون رحمہ اللہ نے اس کی مثل ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ”دودھ روکی ہوئی بکری کو خریدنے والا اختیار سے ہے۔ اگر اس کو واپس کرے تو ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ دے، گندم نہیں۔“