السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من قال: لا توضع الجائحة باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی نہیں دی جائے گی“۔
رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ بَاعَ حَائِطًا لَهُ فَأَصَابَتْ مُشْتَرِيَهُ جَائِحَةٌ فَأَخَذَ الثَّمَنَ مِنْهُ، وَلَا أَدْرِي أَثَبَتَ أَمْ لَا؟.یہ بات عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے مروی ہے۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنا ایک باغ فروخت کیا، پھر اس کے خریدار کو (پھلوں پر) کوئی آفت پہنچ گئی تو انہوں نے اس سے قیمت لے لی، اور میں نہیں جانتا کہ یہ (روایت) ثابت ہے یا نہیں؟“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا تُزْهَى؟ قَالَ: " حِينَ تَحْمَرُّ " وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ..سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا: اس کا پکنا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ سرخ ہو جائیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ پھل روک لے، پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں مباح خیال کرتے ہو۔“