کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی نہیں دی جائے گی“۔
حدیث نمبر: 10623
رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ بَاعَ حَائِطًا لَهُ فَأَصَابَتْ مُشْتَرِيَهُ جَائِحَةٌ فَأَخَذَ الثَّمَنَ مِنْهُ، وَلَا أَدْرِي أَثَبَتَ أَمْ لَا؟.
حافظ ثناء اللہ
یہ بات عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے مروی ہے۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنا ایک باغ فروخت کیا، پھر اس کے خریدار کو (پھلوں پر) کوئی آفت پہنچ گئی تو انہوں نے اس سے قیمت لے لی، اور میں نہیں جانتا کہ یہ (روایت) ثابت ہے یا نہیں؟“
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنا ایک باغ فروخت کیا، پھر اس کے خریدار کو (پھلوں پر) کوئی آفت پہنچ گئی تو انہوں نے اس سے قیمت لے لی، اور میں نہیں جانتا کہ یہ (روایت) ثابت ہے یا نہیں؟“
حدیث نمبر: 10623
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهَى، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا تُزْهَى؟ قَالَ: " حِينَ تَحْمَرُّ " وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا: اس کا پکنا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ سرخ ہو جائیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ پھل روک لے، پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں مباح خیال کرتے ہو۔“
حدیث نمبر: 10624
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ خِلَالَ كَلَامِهِ فِي مَسْأَلَةِ الْجَائِحَةِ: لَوْ كَانَ مَالِكُ الثَّمَرَةِ لَا يَمْلِكُ ثَمَنَ مَا اجْتِيحَ مِنْ ثَمَرَتِهِ مَا كَانَ لِمَنْعِهِ أَنْ يَبِيعَهَا مَعْنَى إِذَا كَانَ يَحِلُّ بَيْعُهَا طَلْعًا، أَوْ بَلَحًا يُلْقَطُ وَيُقْطَعُ إِلَّا أَنَّهُ أَمَرَ بِبَيْعِهَا فِي الْحِينِ الَّذِي الْأَغْلَبُ فِيهَا أَنْ تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ، وَلَوْ لَمْ يَلْزَمْهُ ثَمَنُ مَا أَصَابَتْهُ الْجَائِحَةُ مَا ضَرَّ ذَلِكَ الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ، قَالَ: وَإِنْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ فِي وَضَعِ الْجَائِحَةِ لَمْ يَكُنْ فِي هَذَا حُجَّةٌ، وَأَمْضَى الْحَدِيثَ عَلَى وَجْهِهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ اس مسئلے میں فرماتے ہیں کہ اگر پھل کا مالک اپنے پھلوں کی خرابی کی وجہ سے اس قیمت کا مالک نہ بن سکا تو اس وجہ سے اس کو فروخت کرنے سے رکاوٹ پیدا نہ کریں، جب وہ کچی کھجور اور درمیانے درجے کی کھجور فروخت کر سکتا ہے تو اس کو اجازت ہونی چاہیے، جب وہ پھل آفات سے محفوظ ہو جائے تو فروخت کرے، اگر خشک سالی یا آفات کی وجہ سے کمی پر قیمت لازم نہ ہو تو یہ چیز خریدار اور فروخت کرنے والے کو نقصان نہ دے گی، اگر یہ حدیث ثابت ہو کہ خشک سالی یا آفات کی وجہ سے قیمت کم کر دی جائے تو یہ حدیث دلیل نہ ہوگی، اس طرح کی حدیث پہلے گزر گئی۔
حدیث نمبر: 10625
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ، فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ عَنْهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا " فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُوَ لَهُ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ، وَقَالَ: فَعَالَجَهُ وَأَقَامَ عَلَيْهِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: حَدِيثُ عَمْرَةَ مُرْسَلٌ، وَأَهْلُ الْحَدِيثِ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ فَلَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عَمْرَةَ كَانَتْ فِيهِ وَاللهُ أَعْلَمُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنْ لَا تُوضَعَ الْجَائِحَةُ لِقَوْلِهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَأَلَّى أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا " وَلَوْ كَانَ الْحُكْمُ عَلَيْهِ أَنْ يَضَعَ الْجَائِحَةَ لَكَانَ أَشْبَهُ أَنْ يَقُولَ: ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ حَلَفَ أَوْ لَمْ يَحْلِفْ، ⦗٤٩٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ أَسْنَدَهُ حَارِثَةُ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ فَرَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا أَنَّ حَارِثَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَأَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَصَرٌ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الثَّمَرِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں ایک آدمی نے باغ کا پھل خریدا۔ اس نے اس میں کام کیا، لیکن پھر بھی نقصان ہو گیا، اس نے باغ کے مالک سے کہا کہ وہ قیمت کم کرے یا سودا فسخ کر دے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہ کرے گا تو خریدار کی والدہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئیں، آپ ﷺ کے سامنے جا کر تذکرہ کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے بھلائی نہ کرنے کی قسم کھائی ہے۔“ یہ بات باغ کے مالک نے سن لی، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”یہ اس کے لیے ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ وہ سودا توڑ دے اور فرمایا: ”اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔“
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرہ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ وہ سودا توڑ دے اور فرمایا: ”اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔“
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ کی حدیث مرسل ہے، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرہ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 10626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمْ، وَإِذَا أَحَدُهُمْ يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَفْعَلُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: " أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا فَلَهُ أِيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے دروازے پر جھگڑنے والوں کی بلند آوازیں سنیں، جب دوسرا قیمت کم کرنے اور نرمی کا مطالبہ کرتا تو وہ کہہ دیتا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہ کروں گا۔
نبی ﷺ ان کے پاس گئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ قسم اٹھانے والا کدھر ہے، جو کہتا ہے کہ وہ اچھا کام نہ کرے گا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ اس نے کہا: جو یہ پسند کرے اس کے لیے ہے۔
نبی ﷺ ان کے پاس گئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”وہ قسم اٹھانے والا کدھر ہے، جو کہتا ہے کہ وہ اچھا کام نہ کرے گا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ اس نے کہا: جو یہ پسند کرے اس کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 10627
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں ایک آدمی کو نقصان ہو گیا جو اس نے پھل خریدے تھے، اس کا قرض زیادہ ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس پر صدقہ کرو۔“ انہوں نے صدقہ کیا لیکن قرض پورا نہ ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پکڑو جو تم پاؤ، تمہارے لیے صرف یہی ہے۔“