السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من قال: لا توضع الجائحة باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی نہیں دی جائے گی“۔
حدیث نمبر: 10624
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ خِلَالَ كَلَامِهِ فِي مَسْأَلَةِ الْجَائِحَةِ: لَوْ كَانَ مَالِكُ الثَّمَرَةِ لَا يَمْلِكُ ثَمَنَ مَا اجْتِيحَ مِنْ ثَمَرَتِهِ مَا كَانَ لِمَنْعِهِ أَنْ يَبِيعَهَا مَعْنَى إِذَا كَانَ يَحِلُّ بَيْعُهَا طَلْعًا، أَوْ بَلَحًا يُلْقَطُ وَيُقْطَعُ إِلَّا أَنَّهُ أَمَرَ بِبَيْعِهَا فِي الْحِينِ الَّذِي الْأَغْلَبُ فِيهَا أَنْ تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ، وَلَوْ لَمْ يَلْزَمْهُ ثَمَنُ مَا أَصَابَتْهُ الْجَائِحَةُ مَا ضَرَّ ذَلِكَ الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ، قَالَ: وَإِنْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ فِي وَضَعِ الْجَائِحَةِ لَمْ يَكُنْ فِي هَذَا حُجَّةٌ، وَأَمْضَى الْحَدِيثَ عَلَى وَجْهِهِ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ اس مسئلے میں فرماتے ہیں کہ اگر پھل کا مالک اپنے پھلوں کی خرابی کی وجہ سے اس قیمت کا مالک نہ بن سکا تو اس وجہ سے اس کو فروخت کرنے سے رکاوٹ پیدا نہ کریں، جب وہ کچی کھجور اور درمیانے درجے کی کھجور فروخت کر سکتا ہے تو اس کو اجازت ہونی چاہیے، جب وہ پھل آفات سے محفوظ ہو جائے تو فروخت کرے، اگر خشک سالی یا آفات کی وجہ سے کمی پر قیمت لازم نہ ہو تو یہ چیز خریدار اور فروخت کرنے والے کو نقصان نہ دے گی، اگر یہ حدیث ثابت ہو کہ خشک سالی یا آفات کی وجہ سے قیمت کم کر دی جائے تو یہ حدیث دلیل نہ ہوگی، اس طرح کی حدیث پہلے گزر گئی۔