السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10606
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " لَا يُبْتَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ "، قَالَ: وَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ ".حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”پھل کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ کھایا جا سکے۔“