السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ وَهْبُ اللهِ بْنُ رَاشِدِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ الْمُبْتَاعُ: إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الْعَفَنُ الدُّمَانُ، أَصَابَهُ مَرَاقٌ، أَصَابَهُ قُشَامٌ، عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا، وَالْقُشَامُ شَيْءٌ يُصِيبُهُ حَتَّى لَا يَرْطَبَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ: " فَأَمَّا لَا فَلَا تَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ " كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا؛ لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَمْوَالِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَسْتَبِينَ الْأَحْمَرُ مِنَ الْأَصْفَرِ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: مُرَاضٌ بَدَلَ مَرَاقٍ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الدُّمَانُ: أَنْ تَنْشَقَّ النَّخْلَةُ أَوَّلَ مَا يَبْدُو قَلْبُهَا عَنْ عَفَنٍ وَسَوَادٍ، قَالَ: وَالْقُشَامُ أَنْ يُنْتَقَصَ ثَمَرُ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ يَصِيرَ بَلَحًا، وَالْمُرَاضُ: اسْمٌ لِأَنْوَاعِ الْأَمْرَاضِ.سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں پھلوں کی بیع کرتے تھے، جب لوگ پھل توڑتے اور تقاضے کا وقت آتا تو پھر خریدنے والا یہ کہہ دیتا کہ پھلوں کو «عَضُّ الرُّمَّانِ» (یعنی پھل بننے سے پہلے کی بیماری) لگ گئی تھی، اس کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ گئی تھیں۔ «قُشَام» (ایسی بیماری جو کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے لگ جائے)۔ اس طرح کے حیلہ و حجت کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے جب جھگڑے زیادہ ہو گئے تو فرمایا: ”پھلوں کو فروخت نہ کرو جب تک ان میں پکنے کے آثار واضح نہ ہو جائیں“، گویا کہ آپ ﷺ ان کو مشورہ دے رہے تھے ان کے زیادہ جھگڑے ہونے کی وجہ سے۔
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہو جاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہو جائے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے «مَرَاض» کے الفاظ ذکر کیے ہیں، «وَاقٍ» کے بدلے۔
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عَضُّ الرُّمَّانِ» کھجور کا پھٹ جانا اس کے گابھے سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
«القُشَام»: کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گر جائے۔ «مَرَاض»: مختلف قسم کی بیماریاں۔