السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار باب: اس وقت کا بیان جس میں پھلوں کی بیع حلال ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10607
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَبِيعُ الثَّمَرَ مِنْ غُلَامِهِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَيَقُولُ: " لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ سَيِّدِهِ رِبًا ".حافظ ثناء اللہ
ابو معبد، جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے پھل پکنے سے پہلے اپنے غلام کو فروخت کر دیتے اور فرماتے کہ سید اور غلام کے درمیان سود نہیں ہوتا۔