حدیث نمبر: 10604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ، يَقُولُ: ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو ⦗٤٩٢⦘ مُسْلِمٍ، ثنا الْوَلِيدُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ "، قُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: حَتَّى يُحْزَرَ - وَفِي رِوَايَةِ آدَمَ - فَقَالَ رَجُلٌ: وَأِيُّ شَيْءٍ يُوزَنُ؟، فَقَالَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ: حَتَّى يُحْزَرَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ هُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

ابو البغزی فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے «سَلَمٌ فِي النَّخْلِ» (درخت پر لگی کھجور میں بیعِ سَلَم) کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”کھجور کو فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک کہ وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے یا اس کا وزن نہ کر لیا جائے۔“ میں نے پوچھا: اس کا وزن کرنا کیا ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ کرنا ہے۔
(ب) آدم کی روایت میں ہے کہ اس آدمی نے کہا: کس چیز کے ساتھ وزن کیا جائے؟ تو اس کے پہلو میں بیٹھے شخص نے کہا کہ اس سے مراد اندازہ لگانا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10604
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1537»