حدیث نمبر: 10317
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ رَبِيعَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ رَكِبَ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: " بِاسْمِ اللهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: ١٤]، ثُمَّ حَمِدَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ لَهُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ وَقَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْنَا: مَا يُضْحِكُكَ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: " الْعَبْدُ " أَوْ قَالَ: " عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے جس وقت وہ سوار ہوئے۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو فرمانے لگے: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“، جب سواری پر بیٹھ گئے تو کہنے لگے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، پھر کہا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [سورة الزخرف: 13] ”اللہ پاک ہے جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا حالانکہ ہم اس سے ملنے والے نہ تھے“، پھر تین بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور تین بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا ہے تو مجھے میرے گناہ معاف کر دے، تیرے علاوہ گناہ معاف کرنے والا کوئی نہیں“، پھر مسکرائے۔ کہا گیا: اے امیر المومنین! آپ رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، انہوں نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے، آپ ﷺ نے ایسے ہی کہا جیسے میں نے کہا، پھر مسکرائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ فرمایا: ”بندے نے (یا فرمایا: میں نے) تعجب کیا بندے کے کہنے سے کہ صرف تو ہی معبود ہے، میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا ہے، میرے گناہ معاف کر دے، تیرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں، جبکہ بندہ جانتا ہے کہ صرف وہی گناہ معاف کرتا ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10317
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 2603۔ الترمذي 3446»