حدیث نمبر: 10316
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: " {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: ١٤]، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، اللهُمَّ هُوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " قَالَ: وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: " آئِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: " اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي مَسِيرِنَا هَذَا " وَلَمْ يَقُلْ " تُحِبُّ "، وَقَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ " وَزَادَ: " عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ "، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو سکھایا کہ جب وہ سفر کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوں تو تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» کہیں۔ پھر یہ دعا پڑھیں: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا، حالاں کہ ہم اسے قابو کرنے والے نہیں تھے اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔“ «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ» ”اے اللہ! ہم اپنے سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جس کو تو پسند کرے۔ اے اللہ! ہمارا یہ سفر ہم پر آسان فرما دے اور ہم سے اس کی دوری کم کر دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت سے اور مال اور اہل میں برے منظر کے غم اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ اور جب واپس آئے تو ان کلمات کو کہے اور ان میں اضافہ بھی کرے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔“
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ ”ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں سوال کرتے ہیں“ لیکن اس نے «تُحِبُّ» کے لفظ نہیں کہے اور فرمایا: ”کہہ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت اور مال و اہل میں برے منظر کے غم سے اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتی ہوں“ اس میں زیادتی یہ ہے: ”عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10316
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1342»