أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: " {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: ١٤]، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، اللهُمَّ هُوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " قَالَ: وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: " آئِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: " اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي مَسِيرِنَا هَذَا " وَلَمْ يَقُلْ " تُحِبُّ "، وَقَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ " وَزَادَ: " عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ "، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سکھایا کہ نبی ﷺ جب سفر کے لیے نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا، حالاں کہ ہم اسے قابو کرنے والے نہیں تھے اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔“ «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» ”اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جسے تو پسند کرے اور جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ! ہمارا سفر ہم پر آسان فرما دے اور ہم سے اس کی دوری لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ! ہم سفر کی مشقت، ناکام لوٹنے کے غم اور اہل و مال میں برے منظر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔“ اور جب واپس آتے تو ان کلمات کو کہتے اور ان میں یہ اضافہ کرتے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔“
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ ”اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں سوال کرتے ہیں“ لیکن اس نے «تُحِبُّ» کے لفظ نہیں کہے اور کہا: ”اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت، برے منظر کے غم اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ اس میں زیادتی یہ ہے: ”عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔“
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ ”اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں سوال کرتے ہیں“ لیکن اس نے «تُحِبُّ» کے لفظ نہیں کہے اور کہا: ”اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی مشقت، برے منظر کے غم اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“ اس میں زیادتی یہ ہے: ”عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ رَبِيعَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ رَكِبَ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: " بِاسْمِ اللهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: ١٤]، ثُمَّ حَمِدَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ لَهُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ وَقَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْنَا: مَا يُضْحِكُكَ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: " الْعَبْدُ " أَوْ قَالَ: " عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے جس وقت وہ سوار ہوئے۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو فرمانے لگے: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“، جب سواری پر بیٹھ گئے تو کہنے لگے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، پھر کہا: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ [سورة الزخرف: 13-14] ”اللہ پاک ہے جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا حالانکہ ہم اس سے ملنے والے نہ تھے اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں“، پھر تین بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور تین بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا ہے تو مجھے معاف کر دے، تیرے علاوہ گناہ معاف کرنے والا کوئی نہیں“، پھر مسکرائے۔ کہا گیا: اے امیر المومنین! آپ رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، انہوں نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا ہے، آپ ﷺ نے ایسے ہی کہا جیسے میں نے کہا، پھر مسکرائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ فرمایا: ”بندے نے (یا فرمایا: میں نے) تعجب کیا بندے کے کہنے سے کہ صرف تو ہی معبود ہے، میں نے اپنی جان پر ظلم کر لیا ہے، مجھے معاف کر دے، تیرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں، جبکہ بندہ جانتا ہے کہ صرف وہی گناہ معاف کرتا ہے“۔
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ⦗٤١٤⦘ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِذَا رَكِبَ الرَّجُلُ الدَّابَّةَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ رَدِفَهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ لَهُ: تَغَنَّ، فَإِنْ لَمْ يُحْسِنْ، قَالَ لَهُ: تَمَنَّ " مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی چوپائے پر سوار ہوتا ہے اور اللہ کا نام نہیں لیتا تو اس کا ردیف شیطان ہوتا ہے، وہ اس سے کہتا ہے: گانا گاؤ، اگر وہ اچھا نہ گا سکتا ہو تو اس سے کہتا ہے: آرزو کر۔
یہ روایت موقوف ہے۔
یہ روایت موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلِ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ، فَقَالَ: " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا عَلَى ذِرْوَتِهِ شَيْطَانٌ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالاس خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حج کے لیے صدقہ کے کمزور اونٹوں پر سوار کیا، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارا خیال نہیں کہ یہ ہمیں اٹھا سکیں گے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، جب تم سواری کرو تو اللہ کا نام لے لیا کرو، جیسے اس نے تمہیں حکم دیا ہے، پھر تم ان سے اپنے کام لو، کیونکہ اللہ ہی سوار کرتا ہے۔“