السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يقول إذا ركب باب: جب مسافر سواری پر سوار ہو تو کیا پڑھے۔
حدیث نمبر: 10318
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ⦗٤١٤⦘ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِذَا رَكِبَ الرَّجُلُ الدَّابَّةَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ رَدِفَهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ لَهُ: تَغَنَّ، فَإِنْ لَمْ يُحْسِنْ، قَالَ لَهُ: تَمَنَّ " مَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی چوپائے پر سوار ہوتا ہے اور اللہ کا نام نہیں لیتا تو اس کا ردیف شیطان ہوتا ہے، وہ اس سے کہتا ہے: گانا گاؤ اگرچہ وہ اچھا نہ گا سکتا ہو اور اس سے کہتا ہے: آرزو کر۔