حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالُوا: أنا شُعْبَةُ، أنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ فَأَذِنَ لَهُ وَقَالَ: " لَا تَنْسَنَا يَا أَخِي مِنْ دُعَائِكَ " قَالَ: فَقَالَ لِي كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ وَقَالَ فِيهِ: " أَشْرِكْنَا يَا أَخِي فِي دُعَائِكَ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ، قَالَ فِي إِسْنَادِهِ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٤١٣⦘ عُمَرَ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: فَقَالَ لِي كَلِمَةً مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، وَإِثْبَاتُ أَخِي فِي أَوَّلِهِ وَأَخِي فِي آخِرِهِ مِنْ جِهَتِهِ.سالم اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی اور فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے ایسا کلمہ کہا جس نے مجھے دنیا میں خوش کر دیا۔ شعبہ کہتے ہیں کہ بعد میں عاصم سے مدینہ میں ملا، اس نے مجھ سے بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا۔“
(ب) سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے ایک بات کہی میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے عوض میرے لیے دنیا ہو، «أَخِي» کے الفاظ ابتدا اور آخر دونوں طرف موجود ہیں۔