السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على أن الصعيد الطيب هو التراب باب: اس دلیل کا بیان کہ ”صعید طیب“ سے مراد پاک مٹی ہے
حدیث نمبر: 1023
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ لَنَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرَابُهَا طَهُورًا، وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنْهُ قَبْلِي، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ مِنْهُ بَعْدِي ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ، وَحَدِيثُ عَفَّانَ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ: " وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں لوگوں پر تین چیزوں کی فضیلت دی گئی ہے؛ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں، زمین ہمارے لیے مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی پاک کر دی گئی ہے، اور مجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات خزانوں کے گھر عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور نہ ہی میرے بعد کسی کو دی جائیں گی۔“
(ب) حدیثِ عفان اسی روایت کے معنی میں ہے، ”اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے۔“