السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على أن الصعيد الطيب هو التراب باب: اس دلیل کا بیان کہ ”صعید طیب“ سے مراد پاک مٹی ہے
حدیث نمبر: 1024
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ " فَقُلْنَا: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَتْ لِيَ التُّرَابُ طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ چیز دی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی“، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مدد رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور مجھے زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور میرا نام احمد رکھا گیا ہے اور مٹی میرے لیے پاک کردی گئی ہے اور میری امت بہترین امت بنائی گئی ہے۔“