حدیث نمبر: 1022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْتُ عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا، وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ إِذَا لَمْ نَجْدِ الْمَاءَ. وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، فَقَالَ: " وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر مجھے تین چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں اور ہمارے لیے تمام زمین مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے اور ایک اور خوبی کا ذکر کیا ۔“
(ب) ابوبکر بن ابی شیبہ سے منقول روایت میں یہ اضافہ ہے: ”اگر ہم پانی نہ پائیں۔“
(ج) ابو مالک سے روایت ہے کہ اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے۔
(ب) ابوبکر بن ابی شیبہ سے منقول روایت میں یہ اضافہ ہے: ”اگر ہم پانی نہ پائیں۔“
(ج) ابو مالک سے روایت ہے کہ اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 1023
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ لَنَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرَابُهَا طَهُورًا، وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنْهُ قَبْلِي، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ مِنْهُ بَعْدِي ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ، وَحَدِيثُ عَفَّانَ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ: " وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں لوگوں پر تین چیزوں کی فضیلت دی گئی ہے؛ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں، زمین ہمارے لیے مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی پاک کر دی گئی ہے، اور سورہ بقرہ کی آخری آیت خزانوں کے گھر عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی اور نہ ہی میرے بعد کسی کو دی جائے گی۔“
(ب) حدیثِ عفان اسی روایت کے معنی میں ہے، ”اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے۔“
(ب) حدیثِ عفان اسی روایت کے معنی میں ہے، ”اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 1024
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ " فَقُلْنَا: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَتْ لِيَ التُّرَابُ طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ چیز دی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی“، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مدد رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور مجھے زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور میرا نام احمد رکھا گیا ہے اور مٹی میرے لیے پاک کردی گئی ہے اور میری امت بہترین امت بنائی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 1025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَطْيَبُ الصَّعِيدِ أَرْضُ الْحَرْثِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بہترین مٹی کھیتی والی زمین کی مٹی ہے۔
حدیث نمبر: 1026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بِصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " الصَّعِيدُ الْحَرْثُ حَرْثُ الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: «الصَّعِيدُ» سے مراد ”کھیتی والی زمین کی مٹی“ ہے۔