السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على أن الصعيد الطيب هو التراب باب: اس دلیل کا بیان کہ ”صعید طیب“ سے مراد پاک مٹی ہے
حدیث نمبر: 1022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْتُ عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا، وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ إِذَا لَمْ نَجْدِ الْمَاءَ. وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، فَقَالَ: " وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا ".حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر مجھے تین چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں اور ہمارے لیے تمام زمین مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے اور ایک اور خوبی کا ذکر کیا ۔“
(ب) ابوبکر بن ابی شیبہ سے منقول روایت میں یہ اضافہ ہے: ”اگر ہم پانی نہ پائیں۔“
(ج) ابو مالک سے روایت ہے کہ اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کر دی گئی ہے۔