السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10218
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَهَا (صَوَافِنَ) قَالَ: مَعْقُولَةً وَمَنْ قَرَأَهَا (صَوَافَّ) تُصَفُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹوں کو نحر کرتے تو الٹا پاؤں باندھتے تھے اور وہ باقی تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا تھا۔