کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10213
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا} [الحج: 36] قَالَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ: إِذَا سَقَطَتْ إِلَى الْأَرْضِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا﴾ ”پھر جب وہ (ذبح ہو کر) اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑیں۔“ [سورة الحج: 36]
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”(اس کا مطلب ہے) جب وہ زمین پر گر جائیں۔“
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”(اس کا مطلب ہے) جب وہ زمین پر گر جائیں۔“
حدیث نمبر: 10213
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا التَّبُوذَكِيُّ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَنَحْنُ مَعَهُ وَصَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا عَلَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ كَبَّرَ وَسَبَّحَ وَحَمَّدَ ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ أَهَلَّ بِهِمَا النَّاسُ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا أَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً ثُمَّ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا وَذَبَحَ بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن فرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں افضل دن قربانی کے ہیں، پھر قربانی کا دوسرا دن جس میں لوگ ٹھہرتے ہیں، یعنی وہ دن جو قربانی کے ساتھ ملا ہوا ہو۔“ رسول اللہ ﷺ کے آگے چھ یا سات قربانی کے جانور کیے گئے، وہ قربانیاں آپ ﷺ کے قریب ہونا شروع ہوئیں کہ آپ ﷺ ان میں سے کس سے ابتدا کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے پہلوں کے بل گر پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے (ہلکا سا کوئی کلمہ) آہستہ کوئی بات کہی، میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اس شخص سے کہا جو میرے پہلو میں تھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے کاٹ لے۔“
حدیث نمبر: 10214
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ يَسْتَقِرُّ فِيهِ النَّاسُ " وَهُوَ الَّذِي يَلِي يَوْمَ النَّحْرِ قُدِّمْنَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ، أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةٌ خَفِيَّةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي إِلَى جَنْبِي مَا قَالَ؟ قَالَ: " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا تھا، فرمانے لگے: اس کو کھڑا کر کے باندھ لو، یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 10215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِكَةً، فَقَالَ: " ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُّنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے قربانی کے اونٹ کو کھڑا کر کے اس کی اگلی ٹانگوں میں سے ایک باندھ دی، وہ تین ٹانگوں پر کھڑا تھا اور آپ نحر کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 10216
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: ثنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ قَائِمَةٌ مَعْقُولَةٌ، إِحْدَى يَدَيْهَا صَافِنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوظبیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ حرف تلاوت کرتے ﴿فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ [سورة الحج: 36] ”تم اللہ کا نام ذکر کرو ان پر پنڈلیوں کو باندھ کر“ اور فرماتے کہ تینوں پنڈلیاں باندھی ہوں۔ پھر فرماتے: «بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے“۔ راوی کہتے ہیں: قربانی کی کھال کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمانے لگے کہ صدقہ کر دے یا خود نفع اٹھا لے۔
حدیث نمبر: 10217
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، ⦗٣٩٠⦘ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ (فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافِنَ) يَقُولُ: مَعْقُولَةً عَلَى ثَلَاثَةٍ، يَقُولُ: " بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ جُلُودِهَا، فَقَالَ: يَتَصَدَّقُ بِهَا أَوْ يَنْتَفِعُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے «صَوَافِنَ» پڑھا، فرماتے ہیں کہ ”وہ بندھا ہوا ہو“ اور جس نے «صَوَافَّ» پڑھا ہے، ”مراد سامنے صف باندھے ہوئے“ ہیں۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبری فی تفسیرہ: ٩/ ١٥٢]
حدیث نمبر: 10218
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَهَا (صَوَافِنَ) قَالَ: مَعْقُولَةً وَمَنْ قَرَأَهَا (صَوَافَّ) تُصَفُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹوں کو نحر کرتے تو الٹا پاؤں باندھتے تھے اور وہ باقی تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 10219
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا " حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْصُولٌ وَحَدِيثُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حارث ازدی کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں حجۃ الوداع میں نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھا، اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابو الحسن کو بلاؤ۔“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”برچھی کی نیچے والی جانب پکڑو۔“ رسول اللہ ﷺ نے برچھی کی اوپر والی جانب پکڑی۔ پھر آپ ﷺ نے اونٹ کو ماری، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کیا۔