کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
❮
❯
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا} [الحج: 36] قَالَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ: إِذَا سَقَطَتْ إِلَى الْأَرْضِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا﴾ ”پھر جب وہ (ذبح ہو کر) اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑیں۔“ [سورة الحج: 36]
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”(اس کا مطلب ہے) جب وہ زمین پر گر جائیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10213
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا التَّبُوذَكِيُّ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَنَحْنُ مَعَهُ وَصَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا عَلَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ كَبَّرَ وَسَبَّحَ وَحَمَّدَ ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ أَهَلَّ بِهِمَا النَّاسُ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا أَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً ثُمَّ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا وَذَبَحَ بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھائی اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ پھر یہاں رات گزاری اور صبح کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ جب سواری بیداء پر چڑھی تو آپ ﷺ نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا، پھر حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ پھر لوگوں نے بھی حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب ہم (مکہ) آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا: ”اس کو عمرہ میں تبدیل کر دو“، پھر انہوں نے 8 ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور آپ ﷺ نے مدینہ میں سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10213
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 1765»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ يَسْتَقِرُّ فِيهِ النَّاسُ " وَهُوَ الَّذِي يَلِي يَوْمَ النَّحْرِ قُدِّمْنَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ، أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةٌ خَفِيَّةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي إِلَى جَنْبِي مَا قَالَ؟ قَالَ: " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں سب سے افضل دن قربانی کا دن ہے، پھر قر کا دن جس میں لوگ ٹھہرتے ہیں“، یعنی وہ دن جو قربانی کے دن سے ملا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے آگے پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ کیے گئے، وہ آپ ﷺ کے قریب ہونا شروع ہوئے کہ آپ ﷺ ان میں سے کس سے ابتدا کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے آہستہ سے کوئی بات کہی، میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اس شخص سے کہا جو میرے پہلو میں تھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے کاٹ لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10214
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1627»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِكَةً، فَقَالَ: " ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُّنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا تھا، فرمانے لگے: اس کو کھڑا کر کے باندھ لو، یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10215
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: ثنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ قَائِمَةٌ مَعْقُولَةٌ، إِحْدَى يَدَيْهَا صَافِنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے قربانی کے اونٹ کو کھڑا کر کے اس کی اگلی ٹانگوں میں سے ایک باندھ دی، وہ تین ٹانگوں پر کھڑا تھا اور آپ نحر کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10216
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الطبري في تفسيره 9/ 152»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، ⦗٣٩٠⦘ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ (فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافِنَ) يَقُولُ: مَعْقُولَةً عَلَى ثَلَاثَةٍ، يَقُولُ: " بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ جُلُودِهَا، فَقَالَ: يَتَصَدَّقُ بِهَا أَوْ يَنْتَفِعُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوظبیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ حرف یوں تلاوت کرتے: ﴿فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافِنَ﴾ [سورة الحج: 36] ”تم ان پر اللہ کا نام ذکر کرو اس حال میں کہ وہ (ایک ٹانگ بندھی ہوئی) کھڑے ہوں“ اور فرماتے کہ (اس سے مراد ہے) بندھا ہوا، تین ٹانگوں پر کھڑا ہو۔ پھر فرماتے: «بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے“۔ راوی کہتے ہیں: ان کی کھالوں کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمانے لگے کہ صدقہ کر دے یا خود نفع اٹھا لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10217
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَهَا (صَوَافِنَ) قَالَ: مَعْقُولَةً وَمَنْ قَرَأَهَا (صَوَافَّ) تُصَفُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے «صَوَافِنَ» پڑھا، فرماتے ہیں کہ ”وہ بندھا ہوا ہو“ اور جس نے «صَوَافَّ» پڑھا ہے، ”مراد سامنے صف باندھے ہوئے“ ہیں۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبری فی تفسیرہ: 9/ 152]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10218
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1767»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا " حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْصُولٌ وَحَدِيثُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اونٹوں کو نحر کرتے تو بایاں پاؤں باندھتے تھے اور وہ باقی ٹانگوں پر کھڑا ہوتا تھا۔
ابن جریج کی ابوزبیر کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت موصول (متصل) ہے اور ان کی عبدالرحمن بن سابط سے روایت مرسل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10219
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1766»