السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10219
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا " حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْصُولٌ وَحَدِيثُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ مُرْسَلٌ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حارث ازدی کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں حجۃ الوداع میں نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھا، اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابو الحسن کو بلاؤ۔“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”برچھی کی نیچے والی جانب پکڑو۔“ رسول اللہ ﷺ نے برچھی کی اوپر والی جانب پکڑی۔ پھر آپ ﷺ نے اونٹ کو ماری، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کیا۔