السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10217
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، ⦗٣٩٠⦘ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ (فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافِنَ) يَقُولُ: مَعْقُولَةً عَلَى ثَلَاثَةٍ، يَقُولُ: " بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ جُلُودِهَا، فَقَالَ: يَتَصَدَّقُ بِهَا أَوْ يَنْتَفِعُ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابوظبیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ حرف یوں تلاوت کرتے: ﴿فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافِنَ﴾ [سورة الحج: 36] ”تم ان پر اللہ کا نام ذکر کرو اس حال میں کہ وہ (ایک ٹانگ بندھی ہوئی) کھڑے ہوں“ اور فرماتے کہ (اس سے مراد ہے) بندھا ہوا، تین ٹانگوں پر کھڑا ہو۔ پھر فرماتے: «بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے“۔ راوی کہتے ہیں: ان کی کھالوں کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمانے لگے کہ صدقہ کر دے یا خود نفع اٹھا لے۔