حدیث نمبر: 10216
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: ثنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ قَائِمَةٌ مَعْقُولَةٌ، إِحْدَى يَدَيْهَا صَافِنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوظبیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ حرف تلاوت کرتے ﴿فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ [سورة الحج: 36] ”تم اللہ کا نام ذکر کرو ان پر پنڈلیوں کو باندھ کر“ اور فرماتے کہ تینوں پنڈلیاں باندھی ہوں۔ پھر فرماتے: «بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے“۔ راوی کہتے ہیں: قربانی کی کھال کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمانے لگے کہ صدقہ کر دے یا خود نفع اٹھا لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10216
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الطبري في تفسيره 9/ 152»