السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10216
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: ثنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ قَائِمَةٌ مَعْقُولَةٌ، إِحْدَى يَدَيْهَا صَافِنَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے قربانی کے اونٹ کو کھڑا کر کے اس کی اگلی ٹانگوں میں سے ایک باندھ دی، وہ تین ٹانگوں پر کھڑا تھا اور آپ نحر کر رہے تھے۔