السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِكَةً، فَقَالَ: " ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُّنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا تھا، فرمانے لگے: اس کو کھڑا کر کے باندھ لو، یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔