السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10214
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ يَسْتَقِرُّ فِيهِ النَّاسُ " وَهُوَ الَّذِي يَلِي يَوْمَ النَّحْرِ قُدِّمْنَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ، أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةٌ خَفِيَّةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي إِلَى جَنْبِي مَا قَالَ؟ قَالَ: " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں سب سے افضل دن قربانی کا دن ہے، پھر قر کا دن جس میں لوگ ٹھہرتے ہیں“، یعنی وہ دن جو قربانی کے دن سے ملا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے آگے پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ کیے گئے، وہ آپ ﷺ کے قریب ہونا شروع ہوئے کہ آپ ﷺ ان میں سے کس سے ابتدا کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے آہستہ سے کوئی بات کہی، میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اس شخص سے کہا جو میرے پہلو میں تھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے کاٹ لے۔“