السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: نحر الإبل قياما غير معقولة أو معقولة اليسرى باب: اونٹوں کو کھڑے کر کے نحر کرنے کا بیان اس حال میں کہ ان کے پاؤں نہ باندھے گئے ہوں یا صرف بایاں پاؤں باندھا گیا ہو۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا} [الحج: 36] قَالَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ: إِذَا سَقَطَتْ إِلَى الْأَرْضِ.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا﴾ ”پھر جب وہ (ذبح ہو کر) اپنے پہلوؤں کے بل گر پڑیں۔“ [سورة الحج: 36]
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”(اس کا مطلب ہے) جب وہ زمین پر گر جائیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا التَّبُوذَكِيُّ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَنَحْنُ مَعَهُ وَصَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا عَلَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ كَبَّرَ وَسَبَّحَ وَحَمَّدَ ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ أَهَلَّ بِهِمَا النَّاسُ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا أَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً ثُمَّ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا وَذَبَحَ بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.سیدنا عبداللہ بن فرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں افضل دن قربانی کے ہیں، پھر قربانی کا دوسرا دن جس میں لوگ ٹھہرتے ہیں، یعنی وہ دن جو قربانی کے ساتھ ملا ہوا ہو۔“ رسول اللہ ﷺ کے آگے چھ یا سات قربانی کے جانور کیے گئے، وہ قربانیاں آپ ﷺ کے قریب ہونا شروع ہوئیں کہ آپ ﷺ ان میں سے کس سے ابتدا کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے پہلوں کے بل گر پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے (ہلکا سا کوئی کلمہ) آہستہ کوئی بات کہی، میں اس کو سمجھ نہ پایا، میں نے اس شخص سے کہا جو میرے پہلو میں تھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے کاٹ لے۔“