السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: لبن البدنة لا يشرب إلا بعد ري فصيلها ويحمل عليها فصيلها باب: قربانی کی اونٹنی کا دودھ اس کے بچے کے سیراب ہونے کے بعد ہی پیا جائے، اور اس کے بچے کو اسی پر سوار کیا جائے۔
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: " إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى بَدَنَتِكَ فَارْكَبْهَا رُكُوبًا غَيْرَ فَادِحٍ وَإِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى لَبَنِهَا فَاشْرَبْ مَا بَعْدَ رِيِّ فَصِيلِهَا وَإِذَا نَحَرْتَهَا فَانْحَرْ فَصِيلَهَا مَعَهَا ".سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھائی اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ پھر یہاں رات گزاری اور صبح کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ جب سواری بیدا پہاڑی پر چڑھی تو آپ ﷺ نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا، پھر حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ پھر لوگوں نے بھی حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب ہم آئے تو آپ ﷺ نے کہا: پھر لوگوں نے بھی حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب ہم آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو عمرہ میں تبدیل کر دو، پھر 8 ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ لینا“ اور رسول اللہ ﷺ نے سات قربانیاں اپنے ہاتھ سے کھڑے کر کے کیں۔ آپ ﷺ نے مدینہ میں سینگوں والے دو مینڈھے ذبح کیے۔