حدیث نمبر: 10101
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الَّذِي لُدِغَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْعُمْرَةِ فَأُحِصَرَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " ابْعَثُوا بِالْهَدْيِ، وَاجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ يَوْمَ أَمَارٍ فَإِذَا ذَبَحَ الْهَدْيَ بِمَكَّةَ حَلَّ هَذَا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ الْكِسَائِيُّ: الْأَمَارُ: الْعَلَامَةُ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا الشَّيْءُ، يَقُولُ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ يَوْمًا تَعْرِفُونَهُ لِكَيْلَا تَخْتَلِفُوا.
حافظ ثناء اللہ

ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ رکھتی ہے؟“ اس نے کہا: میں بیمار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی وہ جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر عروہ کی حدیث نبی ﷺ سے استثنا کے بارے میں ثابت ہو تو میں کسی اور کے لیے اس کو جائز قرار نہ دوں گا، کیونکہ میرے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے برخلاف بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10101
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الشافعي575»