حدیث نمبر: 10100
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، فَذَكَرَهُ. ⦗٣٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ صَحَّ عَلَى أَنَّهُ يَحِلُّ بَعْدَ فَوَاتِهِ بِمَا يَحِلُّ بِمَنْ يَفُوتُهُ الْحَجُّ بِغَيْرِ مَرَضٍ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ثَابِتًا عَنْهُ، قَالَ: لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ عَدُوٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس کو ڈس لیا گیا اور اس نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا تھا، پھر وہ روک دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کی قربانی مکہ روانہ کرو اور اپنے اور اس کے درمیان ایک دن علامت کے طور پر مقرر کرو، جب قربانی مکہ میں ذبح کر دی جائے تو وہ حلال ہو جائے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسائی نے کہا: «الْأَمَارُ» کا معنی ”علامت“ ہے، جس کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانا جائے؛ ایک معروف دن مقرر کر لو تاکہ تمہارے درمیان اختلاف نہ ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10100
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»