السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لم ير الإحلال بالإحصار بالمرض باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل نہیں۔
حدیث نمبر: 10095
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالدُّثَيْنَةِ، وَقَعْتُ عَنْ رَاحِلَتِي فَكُسِرْتُ فَبَعَثْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَسُئِلَا فَقَالَا: " لَيْسَ لَهُ وَقْتٌ كَوَقْتِ الْحَجِّ يَكُونُ عَلَى إِحْرَامِهِ حَتَّى يَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ "، قَالَ: فَتَنَقَّلْتُ تِلْكَ الْمِيَاهَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ أَوْ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى الْبَيْتِ هُوَ أَبُو الْعَلَاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ مِنْ ثِقَاتِ الْبَصْرِيِّينَ.حافظ ثناء اللہ
ایوب ابوالعلا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کی غرض سے نکلا اور دثینہ کے مقام پر آگیا۔ میں اپنی سواری سے گر پڑا اور میرا کوئی عضو ٹوٹ گیا۔ میں نے کسی کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا تاکہ ان دونوں سے سوال کیا جائے۔ ان دونوں نے کہا: اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں جیسے حج کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے احرام میں رہے جب تک بیت اللہ نہ پہنچ جائے۔ کہتے ہیں: میں چھ ماہ یا سات ماہ انہی پانی کے مقامات پر منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ میں بیت اللہ پہنچا۔
یہ ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر ہیں، جو بصرہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔