السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لم ير الإحلال بالإحصار بالمرض باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل نہیں۔
حدیث نمبر: 10094
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالطَّرِيقِ كُسِرَتْ فَخِذِي، فَأَرْسَلْتُ إِلَى مَكَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ فِي أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَى ذَلِكَ الْمَاءِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
ایوب ابوالعلا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کی غرض سے نکلا اور دثنیہ کے مقام پر آگیا۔ میں اپنی سواری سے گر پڑا اور میرا کوئی عضو ٹوٹ گیا۔ میں نے کسی کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا تاکہ ان دونوں سے سوال کیا جائے۔ ان دونوں نے کہا: اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں جیسے حج کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے احرام میں رہے جب تک بیت اللہ نہ پہنچ جائے۔ کہتے ہیں: میں اسی پانی پر چھ ماہ یا سات ماہ رہا، پھر میں بیت اللہ پہنچا۔