حدیث نمبر: 10093
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُحْصَرُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنِ اضْطُرَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا صَنَعَ ذَلِكَ وَافْتَدَى " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: هُوَ الْمُحْصَرُ بِالْمَرَضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ایوب سختیانی اہل بصرہ کے ایک بوڑھے آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مکہ کی طرف گیا۔ میں ابھی راستے میں تھا کہ میری ران ٹوٹ گئی۔ میں نے مکہ کو چھوڑ دیا لیکن میرے ساتھ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر لوگ تھے۔ کسی نے بھی مجھے حلال ہونے کی رخصت نہ دی۔ میں نے اس چشمے پر سات ماہ گزارے۔ پھر میں عمرہ کرنے کے بعد حلال ہوا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10093
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 804»