السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا قضاء على المحصر إلا أن لا يكون حج حجة الإسلام فيحجها باب: محصر پر قضا لازم نہیں، سوائے اس کے کہ وہ فرض حج (حجۃ الاسلام) نہ ہو تو پھر اسے وہ حج کرنا ہوگا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مِنْ قِبَلِ قَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ} [البقرة: 196] لَمْ يَذْكُرْ قَضَاءً، قَالَ: وَالَّذِي أَعْقِلُ فِي أَخْبَارِ أَهْلِ الْمَغَازِي شَبِيهٌ بِمَا ذَكَرْتُ مِنْ ظَاهِرِ الْآيَةِ، وَذَلِكَ أَنَّا قَدْ عَلِمْنَا فِي مُتَوَاطِئِ أَحَادِيثِهِمْ أَنْ قَدْ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ رِجَالٌ مَعْرُوفُونَ بِأَسْمَائِهِمْ، ثُمَّ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةَ الْقَضِيَّةِ، وَتَخَلَّفَ بَعْضُهُمْ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ وَلَوْ لَزِمَهُمُ الْقَضَاءُ لَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شَاءَ اللهُ بِأَنْ لَا يَتَخَلَّفُوا عَنْهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِهِ: وَقَالَ رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا الْبَدَلُ عَلَى مَنْ نَقَضَ حَجَّهُ بِالتَّلَذُّذِ، فَأَمَّا مَنْ حَبَسَهُ عُذْرٌ وَغَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يَحِلُّ وَلَا يَرْجِعُ وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ وَهُوَ مُحْصَرٌ نَحَرَهُ إِنْ كَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ، وَإنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ".امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(یہ) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے: ﴿فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ ”پھر اگر تم (راستے میں) روک لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو (اسے ذبح کرو)۔“ [سورة البقرة: 196] (اس میں اللہ تعالیٰ نے) قضا کا ذکر نہیں فرمایا۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور اہلِ مغازی (سیرت و غزوات کے ماہرین) کی روایات سے جو بات میری سمجھ میں آتی ہے وہ اسی کے مشابہ ہے جو میں نے آیت کے ظاہر سے ذکر کی، اور وہ یہ کہ ہمیں ان کی متواتر اور باہم موافق روایات سے یہ معلوم ہے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو اپنے ناموں سے معروف ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے عمرۃ القضیہ ادا فرمایا اور ان میں سے بعض لوگ بغیر کسی مجبوری کے مدینہ ہی میں پیچھے رہ گئے، اور اگر ان پر قضا لازم ہوتی تو ان شاء اللہ رسول اللہ ﷺ انہیں حکم دیتے کہ وہ آپ ﷺ سے پیچھے نہ رہیں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا: اور روح نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”بدل (قضا) صرف اس شخص پر ہے جس نے لذت اندوزی (جماع) کے ذریعے اپنا حج توڑ دیا ہو، رہا وہ شخص جسے کسی عذر یا اس کے علاوہ کسی اور چیز نے روک دیا ہو تو وہ حلال ہو جائے گا اور (قضا کے لیے) دوبارہ نہیں آئے گا، اور اگر اس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو اور وہ روکا گیا ہو تو اگر وہ اسے (حرم کی طرف) بھیجنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے (وہیں) ذبح کر دے، اور اگر اسے بھیجنے کی استطاعت رکھتا ہو تو حلال نہ ہو یہاں تک کہ قربانی کا جانور اپنی جگہ پہنچ جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَنَحَرُوا الْهَدْيَ وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْيُ، ثُمَّ لَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَلَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا، وَلَا أَنْ يَعُودُوا لِشَيْءٍ ".ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ عمرۃ القضا نہیں تھا بلکہ یہ تو مسلمانوں پر شرط تھی کہ وہ آئندہ سال عمرہ کریں، اس مہینے میں جس میں مشرکین نے ان کو روکا تھا۔