السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ " أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَمَرُّوا عَلَى حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَرِيضٌ بِالسُّقْيَا، فَأَقَامَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّى إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُمَا بِالْمَدِينَةِ فَقَدِمَا عَلَيْهِ، ثُمَّ إنَّ حُسَيْنًا أَشَارَ إِلَى رَأْسِهِ فَأَمَرَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَأْسِهِ فَحُلِقَ ثُمَّ نَسَكَ عَنْهُ بِالسُّقْيَا فَنَحَرَ عَنْهُ بَعِيرًا " قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ حُسَيْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَفَرِهِ ذَلِكَ.ابو اسماء، جو عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، انہوں نے خبر دی کہ وہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ مدینہ سے نکلے، تو وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو سقیا میں بیمار تھے۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں قیام کیا، یہاں تک کہ جب (حج) فوت ہو جانے کا خوف ہوا تو وہاں سے چلے گئے اور سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا جو اس وقت مدینہ میں تھے، تو وہ دونوں ان کے پاس آ گئے۔ پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے سر کو مونڈنے کا حکم دیا، پھر سقیا کے مقام پر ان کی طرف سے قربانی کی اور ان کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے اس سفر میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تھے۔